ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / اکثریت کے باوجود صدارتی انتخابات میں بی جے پی محتاط،جیت کیلئے لگاناہوگا زور

اکثریت کے باوجود صدارتی انتخابات میں بی جے پی محتاط،جیت کیلئے لگاناہوگا زور

Sun, 09 Apr 2017 01:46:35    S.O. News Service

نئی دہلی:8/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے بعد اب بی جے پی کے سامنے اگلے چیلنج اپنی پسند کا صدر بنوانے کا ہے لیکن لوک سبھا اور بہت سی اسمبلیوں میں واضح اکثریت کے باوجود پارٹی کے لئے صدارتی محل میں اپنی پسند کے امیدوار کو پہنچانا آسان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت شاہ کی قیادت میں بی جے پی اس کام کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔پارٹی کے پالیسی سازوں کو اس بات کا اندازہ ہے کہ صدارتی انتخابات میں ایک ایک ووٹ قیمتی ہونے جا رہا ہے، لہذا دو ماہ بعد ہونے والے صدارتی انتخابات کے لئے یوگی آدتیہ ناتھ اور کیشو پرساد موریہ کے لوک سبھا سے استعفی نہیں کروائے گئے ہیں۔ اسی طرح منوہر پاریکر کی راجیہ سبھا کی رکنیت بھی فی الحال برقرار ہے۔ بی جے پی کی نظر 9 اپریل کو 12 اسمبلی اور 3 لوک سبھا سیٹوں کے ضمنی انتخابات پر بھی ہے۔ امت شاہ اور ان کی ٹیم چاہے گی کہ بی جے پی ان میں سے زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیت جائیں تاکہ صدارتی انتخابات کے لئے ضروری ووٹوں کا فرق کو کم کیا جا سکے۔صدارتی انتخابات میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کل 776 ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ اسمبلیوں کے 4120 ایم ایل اے ووٹ ڈالیں گے، یعنی کل 4896 لوگ مل کر نیا صدر منتخب کریں گے۔ صدارتی انتخابات کے عمل کے مطابق ان ووٹوں کی کل قیمت 10.98 لاکھ ہے۔ بی جے پی کو اپنی پسند کا صدر بنوانے کے لئے 5.49 لاکھ قیمت کے برابر ووٹوں کی درکار ہے۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے بعد بی جے پی اور اتحادی جماعتوں کے پاس کل 5.53 لاکھ ہے، مگر ان میں سے تقریبا 20 ہزار قیمت کے ووٹ این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے ہیں، یعنی فتح کی ضمانت لینے کے لئے بی جے پی کو اب بھی 16 ہزار قیمت کے ووٹ چاہئیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ، کیشو پرساد موریہ اور پاریکر کے استعفی رکواکر بی جے پی نے 2100 ووٹوں کی کمی پوری کر لی ہے۔9 اپریل کو جن سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہیں ان کے ووٹوں کی کل قیمت تقریبا 4 ہزار بیٹھتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان انتخابات میں پارٹی کا خاص زورہے۔صدارتی انتخابات کی دوڑ میں بی جے پی کی فکر صرف اپوزیشن پارٹیوں کو لے کر نہیں ہے، پارٹی کے لئے باغیانہ تیور اپنانے والی شیوسینا پر انحصار کرنا مشکل ہے۔ شیوسینا کہہ چکی ہے کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو صدر امیدوار بنوایا جانا چاہئے۔ اتنا ہی نہیں صدارتی انتخابات میں رکن اسمبلی اور ایم پی کسی وہپ سے نہیں بندھے ہوئے ہوتے، لہذا کراس ووٹنگ کا خدشہ ہمیشہ برقرار رہتا ہے، پارٹی کی ایک فکر نائب صدارتی انتخابات کو لے کر بھی ہے۔ اتحادی پارٹیاں صدارتی انتخابات میں حمایت کے بدلے نائب صدر کے عہدے کے لئے کہ سکتی ہیں۔ ظاہر ہے بی جے پی نہیں چاہے گی کہ اس کے نائب صدارتی انتخابات کے لئے امیدوار کو لے کر سمجھوتہ کرنا پڑے، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بل بوتے صدارتی انتخابات جیت سکے۔


Share: